19 اگست 2010 - 19:30

سعودی عرب کی سیکورٹی فورس نے، ماہ رمضان میں شیعہ مسلمانوں کے عبادی پروگراموں کومحدود کرنےکےلئے، اس ملک کی اہم شیعہ شخصیتوں کوطلب کیاہے۔

اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں پیروان اہل بیت (ع) پر دباؤ ڈالنے کے سلسلے میں ہونے والے انتہا پسندانہ اقدامات میں نماز جماعت برپا کرنے کی اجازت نہ دینا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق سعودی سیکورٹی حکام نے اہم شیعہ راہنما علامہ سید محمد باقر الناصر اور حاج عبداللہ المھنا سے شہر الخبر میں تحریر لی تھی کہ وہ شیعہ مساجد یا رہائشگاہوں میں نماز جماعت ادا نہیں کریں گے تا ہم اس وقت سعودی عرب کے سلفی حکام شیعہ مسلمانوں کو اس مقام پر بھی نماز جماعت قائم نہيں کرنے دے رہے ہیں جو انھوں نے الخبر شہر کے باہر نماز جماعت کے لئے کرائے پر لے رکھا ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی حکومت نے پیروان اہل بیت (ع) کی مذہبی سرگرمیوں کو محدود کرنے کےلئے ان کے سرکردہ رہنماؤں کو بار بار تھانوں میں طلب کرنا شروع کردیا ہے۔الراصد کے مطابق شہر الخبر کے سکیورٹی حکام نے شیعہ رہنماؤں تھانے طلب کرکے انہیں دھمکی دی ہے کہ نماز جماعت برپا کرنے کی صورت میں انہیں شدید سرکاری رد عمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔قبل ازیں بھی سعودی حکومت نے علاقے کے علماء اور عوام کو مجبور کیا تھا کہ وہ مساجد تو کیا، اپنے گھروں میں بھی نماز جماعت بپا کرنے سے اجتناب کریں۔ سعودی حکومت کی متعصبانہ پالیسیوں سے تنگ آکر شیعیان شہر الخبر نے شہر کے باہر ایک جگہ کرائے پر لی اور نماز جماعت برپا کرنے کا انتظام کیا لیکن سعودیوں نے اس مقام پر بھی پیروان اہل بیت (ع) کو نماز جماعت سے منع کردیا ہے۔سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز نے مارچ اور اپریل کے مہینوں میں چار شیعہ عمائدین کو نماز جماعت برپا کرنے کی پاداش میں ایک مہینے تک نظر بند کردیا تھا۔آل سعود نے گذشتہ ڈیڑھ برس میں شیعہ مسلمانوں کی نو مسجدیں بند کردی ہیں۔ یہ مسجدیں شہر الخبر، دمام، ابقیق ، راس تنورہ اور الخفجی میں واقع ہیں۔ سعودی حکومت میں وہابیوں کے اثرورسوخ کی بناپر شیعہ مسلمانوں کےخلاف تعصب برتا جاتاہے۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے شیعہ مسلمانوں کےخلاف سعودی حکومت کے امتیازی رویے پراحتجاج کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔

/110

پچیس سالہ یہودی طالبہ نے اسلام قبول کرلیا